You Are Here:   Home >> Story >> Love Stories >> Kia Krta

Kia Krta

میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکا میں اس سے محبت کرتاتھاکہ نہیں؟وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ھے.
آج سے 7 سال پہلے کی بات ہے ھمارے مالی حالات بہت خراب ھوگۓ ہماری مالی حالت اتنی خراب ہوگئ کہ سب نے ساتھ چھوڑدیا.میں نے اورعمران چھوٹے بھائی نے فیصلہ کیاکہ ھم کراچی شفٹ ہوجائیں.عمران امی اور چھوٹے کو لیکر چلا گیا اور میں اپنے گاؤں سے دور اپنے والد کے سوتیلے ماموں کے گھر چلاگیا.کیونکہ میں اپنا شناختی کارڈ اور چند ضروری تعلیمی اسناد بنوانا چاہتا تھا
بابا میرے والد کے ماموں کی پانچ بیٹیاں ہیں.ان کی چوتھی بیٹی بہت پیاری تھی.میری عمر اس وقت انیس اور اسکی سترہ برس تھی.ھم دونوں ایک دوسرے سے بہت بے تکلف ھوگۓ صبح میرے لیے ناشتہ تیارکرتی.
میرا نام محمد مدنی اور اسکا نام صغری ہے
اب سنئیے اصل کہانی
صغری جلدی کرو مجہے جلدی جانا ہے.
صغری‏!‏ لارہی ھوں صبر کرو میں‏!7 بج رہےہیں اور تم صبر کرنے کو کہہ رہی ہو جلدی....
صغری‏!یہ لو ناشتہ
میں ناشتہ کررہا تھا اور وہ چار پائی کے پائنتے پر بیٹہی مجھے ناشتہ کرتے ہوئے دیکھ رہی ہے,تم نے ناشتہ کیا میں نے اس سے پوچھا
صغری‏!نہیں
میں‏!کیوں نہیں
صغری‏!کرلونگی
میں نے نوالہ توڑا اور اسکے منہ کی طرف بڑھادیا اور اس نے خاموشی سے کھا لیامیں نے جب دوسرا نوالہ بڑھایا
تب اس نے کہا تم کرلو میں بعد میں کرلونگی
میں چپ چاپ ناشتہ کرتا رھا
میں ناشتہ ختم کرنے کے بعد شہر چلاگیا
شام کو تقریبنآ چھ بجے گھر آگیا
میں‏!گھر میں داخل ہوتے ہوئے اسلام وغلیکم
گھر میں موجود سب نے سلام کا جواب دیا
میںصغری کی امی کو مامی کہتا ھوں
میں‏!مامی یہ لیں گھر کا سامان لایا ہوںاور تم (صغری‏)یہ فائل سمبنھال کے رکھ دو.
صغری‏!منہ ھاتھ دھولو میں تمہارے لیے لسی لاتی ھوں
میں‏!ٹھیک ہے
اسطرح رات ہوگئ ہم سونے کی تیاری کرنے لگے چونکہ مجھے آئے دوسرا دن تھا گرمیاں تھیں اسلئیے سب باھر چارپایوں پر سوتے تھے
اسکی چارپائی مجھ سے دو چار پائی دور تھی
اسکا بڑا بھائی میری ساتھ والی چارپائی پر سو رھا تھاھم دونوں باتیں کرتے کب سوگئے
صبح کہ پانچ بج رہے ہیں
صغری‏!مدنی اٹھو صبح ھوگئ
میں‏!ٹائم کیاہوا؟
صغری‏!پانچ
میں‏!سونے دو
صغری‏!اٹھو نماز پڑھ کر سوجانا
اس نے میرے دونوں بازو پکڑ کر بٹھا دیا
میں‏!تم نے پڑھ لی
صغری‏!جارہی ھوںتم جلدی اٹھو.
میں‏ نے اسے غصے میں کہا تم پڑھ لو میرے لئییے دعا مانگ لینا اب جاؤ مجھے سونے دو
میں پھر سوگیا
صبح جب میں اٹھا تو اسکی بڑی بھہن مجھے دینے آئی تو میں نے کہا صغری کہاں ھے
تو باجی نے جواب دیا وہ جانوروں کو چارہ ڈال رہی ہےمیں ناشتہ کرنے لگا
باجی نے مجھے کہا مدنی صغری تم سے ناراض ہےمیںنے کہا ھوجانے دیں میں منالونگا
ناشتہ کرکے میں دوبارہ شہر چلا گیا
دوپہر کو دو ڈہائی بجے میں واپس آیا
تو گھر میں ماموں تھے باقی سب گھر والے گاؤں میں کسی کے گھر گئے ھوئےتھے
‏(باقی پارٹ 2 میں‏)‏


Added By: Madni
 
 
where is part 2?
   Added By: meher       Posted: 07-02-2012
 

Comments:

Please login if you are registered user otherwise register to give comments

 

Featured Memmber

nizamuddin

About us

PoetryUstad.com is plateform to provide best and famous Urdu Poetry, Ghazal, Shayri, latest SMS and Stories.